Photo by News One Bodybuilding is the craze of our generation, young people always idealize movie stars that have muscular bodies and do impossible work by their unreal body strength. Too much...
Source: Facebook Many knee troubles are a result of the aging process and repeated wear and stress on the knee joint (such as arthritis).Other knee pains are a result of an injury or a hasty...
Photo by Synergyzer The story of the decline of Pakistan’s Hockey is quite a miserable one. It is disappointing that our national sports have completely disappeared from the international arena. It...
Photo by Primepowergenset The industry is a driving force for the entire supply chain together with various components like and transportation systems for delivery and accessibility, the labor force...
Photo by Medium.com The Expert system is developed to resolve complex problems and to generate decision-making abilities like a human expert of a specialized field. This induced ability of this...
اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے۔ وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔(سورة الفتح۔آیت نمبر3-4)
Hadith of the Day
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے (دہے) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ (قدر کی) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں“۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔(سنن ابی داود۔ باب نمبر6۔ حدیث نمبر1381)